نئی دہلی،8/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال پر ان کی کابینہ میں وزیر رہے کپل مشرا نے ایک زمین سودے میں 2کروڑ روپے غیر قانونی نقدرقم لینے کا سنسی خیز الزام لگایاہے،جبکہ پارٹی اور دہلی حکومت کی جانب سے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اس پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔پارٹی نے نہ تو تحقیقات کی بات کہی، نہ ہی کسی کے استعفے کی بات کہی۔اب دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے اس معاملے میں اے سی بی کوجانچ کی ہدایت دے دی ہے۔اتوار کو کپل مشرا نے ایل جی سے ملاقات کی تھی۔انہوں نے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ایل جی کو انہوں نے پورے معاملے پر بیان دیا ہے ساتھ ہی ثبوت بھی دیا ہے۔انہوں نے ایل جی سے اس معاملے کی تحقیقات کرائے جانے کی اپیل کی تھی۔واضح رہے کہ لوگوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوپارہی ہے کہ جو پارٹی الزامات کی سیاست سے ہی اقتدار کی چوکھٹ تک پہنچی تھی، وہی پارٹی اب اپنی اعلی قیادت پر لگ رہے رشوت اور بدعنوانی کے الزامات پر صرف الزام کو خارج کرنے کام کر رہی ہے۔ایمانداری کے ڈنکے پر سیاست کرنے کی بات کرنے والی عام آدمی پارٹی اور اروند کیجریوال میڈیا کے سامنے تک نہیں آئے، منیش سسودیا میں بھی میڈیاکے سوالات کا سامنا کرنے سے بچتے نظرآئے۔